مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا وہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مال اندیش انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا تری نگاہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل لگا لگا کے گلے سے چھری کوپیار کیا ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا ٭٭٭
Bookmarks