.


Sehri Special Recipes



Iftaar Special Recipes



Need Your Feed Back


  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    .

    User Tag List

    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 2 of 2

    Thread: قال الم- ١٦

    1. #1
      The thing women have yet to learn is nobody gives you power. You just take it. Admin CaLmInG MeLoDy's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Posts
      6,196
      Threads
      2231
      Thanks
      925
      Thanked 1,359 Times in 862 Posts
      Mentioned
      1038 Post(s)
      Tagged
      7965 Thread(s)
      Rep Power
      10

      قال الم- ١٦

      سولہویں پارے کے اہم مضامین


      SubHeading


      پندرھویں پارے کی چند باقی ماندہ آیتوں سے آج کے تفسیری خلاصہ کی ابتداءکی جارہی ہے۔ ساحل سمندر پر چلتے ہوئے حضرت موسیٰ و خضر علیہما لسلام ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ خضر علیہ السلام نے کشتی پر سوار ہوتے ہی کشتی کو ایک طرف سے توڑ کر عیب دار کردیا۔ موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کشتی کو توڑ کر سواریوں کو غرق کرنا چاہتے ہیں؟ آپ نے بہت خطرناک کام کیا ہے۔ انہوںنے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میری باتوں پر صبر نہیں کرسکوگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں بھول گیا تھا آپ مجھ پر اتنی سختی نہ کریں۔ پھر وہ چل پڑے، راستہ میں ایک بچہ ملا جس کا گلا گھونٹ کر خضر علیہ السلام نے مار ڈالا۔ موسیٰ علیہ السلام سے پھر نہ رہا گیا اور کہنے لگے کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ ایک معصوم جان کو قتل کر ڈالا۔ انہوںنے کچھ زور دے کر کہا کہ میںنے نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ مجھے آخری موقع دے دیں اگر اس مرتبہ میںنے اعتراض کیا تو آپ کو اختیار ہوگا کہ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ پھر وہ لوگ چل پڑے اور چلتے چلتے ایک گاﺅں میں جا پہنچے، دونوں حضرات کو لمبے سفر کی بناءپر بھوک لگی ہوئی تھی۔ وہاں کے لوگوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔ گاﺅں میںایک دیوار گرنے والی ہورہی تھی۔ خضر علیہ السلام نے مرمت کرکے اسے درست کردیا۔ موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ جب گاﺅں کے لوگوں نے ہمیںکھانا نہیں دیا تو آپ کو چاہئے تھا کہ ان کا کام کرکے معاوضہ وصول کرلیتے تاکہ ہم اس سے کھانا ہی خریدلیتے۔ حضرت خضر علیہ السلام کہنے لگے کہ اب ہمارا مزید اکٹھے رہنا ممکن نہیںہے اس لئے آئندہ کے لئے ہمارے راستے جدا جدا ہوجائیں گے، البتہ گزشتہ جو تین واقعات پیش آئے ہیں میںان کی وضاحت کردیتا ہوں۔ کشتی کو عیب دار بنانے کی وجہ دراصل کشتی کے غریب مالکان کا مفاد تھا کیونکہ آگے سمندری حدود میں ایک ظالم بادشاہ کی عملداری تھی اور وہ ہر اچھی اور نئی کشتی کو بحق سرکار ضبط کرلیتا تھا۔ میں نے اس کشتی کا ایک کونا توڑ دیا جس سے ان غریبوں کی کشتی بچ گئی۔
      جس لڑکے کو میں نے قتل کیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مستقبل میں آوارہ، بدمعاش، منکر، کفر کا علم بردار بننے والا تھا اور اپنے نیک والدین کے لئے مشکلات کا باعث بننے والا تھا، اسے میں نے قتل کردیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو اس کا نعم البدل عطاءفرما کر اس کے شر سے محفوظ فرمالیں۔ دیوار کی تعمیر کا مسئلہ یہ تھا کہ گاﺅں میںایک نیک سیرت انسان تھا، اس کے بچے چھوٹے چھوٹے تھے کہ اس کے انتقال کا وقت آگیا۔ اس نے اپنا خزانہ زمین میں دفن کرکے اوپر دیوار تعمیر کردی تھی تاکہ بچے بڑے ہوکر وہ خزانہ حاصل کرسکیں اگر دیوار گر جاتی تو لوگ وہ خزانہ لوٹ کر لے جاتے اور یتیموں کا نقصان ہوجاتا اس لئے میں نے گرتی ہوئی دیوار کو سہارا دے کر درست کردیا۔ یہ ان واقعات کی وضاحت ہے جن پر آپ صبر و تحمل کا دامن چھوڑ بیٹھے تھے۔ پھر قرآن کریم نے مشرکین کے تیسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے صالح بادشاہ کے حالات بیان فرمائے ہیں کہ وہ مشرق و مغرب اور جنوب کی تینوں اطراف میں فتح و کامرانی کے پھریرے لہراتا ہوا پہنچا اور وہاں کے باشندوں کو ہر قسم کا فائدہ پہنچانے میں اس نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ جنوب کے پہاڑی سلسلہ کے باشندوں کا ایک دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ یہ تھا کہ یاجوج ماجوج کے جنگجو دستے ان پر حملہ آور ہوکر انہیں مسلسل نقصان پہنچاتے رہتے تھے، سکندر ذوالقرنین نے لوہے اور پیتل کے جوڑ سے ایک آہنی دیوار سدسکندری تعمیر کرکے ان کے حملوں کا سلسلہ بند کروا دیا جس سے وہاںکے باشندوں کو امن نصیب ہوا۔ اب قرب قیامت میں جب اللہ چاہیں گے یاجوج ماجوج کا ٹڈی دل اس دیوار کو توڑنے میںکامیاب ہوجائے گا اور اس وقت کے لوگوں پر تاخت و تاراج کرکے ان کے لئے مسائل و مشکلات پید اکرے گا، جس کے بعد قیامت قائم ہوجائے گی۔


      سورہ مریم


      ابتداءسورت میں زکریا علیہ السلام کی اولاد کے حصول کے لئے رقت انگیز دعا اور ان کے لئے بیٹے کی بشارت اور پھر یحییٰ علیہ السلام جیسے نابغہ روزگار بیٹے کی ولادت کی اطلاع ہے۔ اس کے بعد مریم علیہا السلام کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ایمان افروز تذکرہ ہے کہ وہ غسل کے لئے تیاری کررہی تھیں کہ ایک شخص ان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا، وہ اسے انسان سمجھ کر اللہ کی پناہ مانگنے لگیں مگر اس نے بتایا کہ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے اور اللہ کے حکم سے بیٹے کی بشارت دینے آیا ہے۔ انہیں تعجب ہوا کہ شوہر کے بغیر کیسے بیٹا پیدا ہوگا۔ انہیں بتایا گیا کہ اللہ کے لئے یہ بات کوئی مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں اور جب ولادت کا درد شروع ہوا تو پریشان ہوکر کہنے لگیں کہ کاش تکلیف اور رسوائی کا یہ وقت آنے سے پہلے ہی وہ انتقال کرچکی ہوتیں۔ وہ اس وقت ویرانے میں کھجور کے ایک خشک تنے کے سہارے بیٹھی ہوئی تھیں۔ فرشتے نے ندا دی کہ آپ کے نچلی جانب نہر جاری ہے۔ کھجور کو جھنجوڑ کر پھل حاصل کریں اور نہر سے پانی پئیں اور بچہ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان کریں اور اگر کوئی پوچھے تو بتادیں کہ میں نے چُپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ اس بچہ سے پوچھ لو۔ جب وہ بچہ کو گود میں لئے ہوئے بستی میں پہنچیں تو لوگوںنے اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔ تمہارے والد صاحب ایک صالح انسان تھے تمہاری والدہ نیک خاتون تھیں پھر تم نے اتنا بڑا حادثہ کیسے کردیا؟ بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ کا بندہ اور بابرکت رسول بنایا گیا ہوں۔ مجھے نماز اور زکوٰة کے اہتمام کی تعلیم دے کر بھیجا گیا ہے۔ میں صلاح و تقویٰ کا پیکر اور والدہ کا فرماں بردار ہوں۔ بچہ کی اس گفتگو نے مریم کو پاک باز بھی ثابت کردیا اور اللہ کی قدرت کو ثابت کرکے لوگوںکے تعجب میں بھی اضافہ کردیا۔ یہ تھے مریم کے بیٹے عیسیٰ۔ یہ اللہ کے بیٹے نہیں بلکہ اللہ کے حکم کن فیکون کے کرشمہ کے طور پر ظاہر ہوئے۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کی صداقت و نبوت کے اعلان کے ساتھ ان کا مکالمہ توحید مذکور ہے جو انہوںنے اپنے والد سے کیا اور اس میں کفر کی بداخلاقی اور نبی کے اخلاق کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے۔ پھر موسیٰ و ہارون کی نبوت اور کوہِ طور پر اللہ سے ہمکلامی کا تذکرہ پھر اسماعیل علیہ السلام کی نبوت و رسالت اور وعدہ کی پاسداری اور نماز اور زکوٰة کے اہتمام کا ذکر۔پھر ادریس کی صداقتِ نبوت کا ذکر، پھر اس بات کا بیان کہ تمام انبیاءعلیہم السلام ایک ہی انعام یافتہ سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور اس سلسلہ کے بانی آدم و نوح و ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ یہ لوگ ہمارے منتخب اور ہدایت یافتہ افراد کے سرخیل تھے۔ بعد میں لوگ خواہشات کے پیچھے چل کر ان کے برگزیدہ افراد کے نقش قدم سے ہٹ گئے اور نماز کے ضائع کرنے والے بن کر جہنم کی خطرناک وادی غیّ کے مستحق بن گئے، لیکن توبہ کرکے ایمان و اعمال صالحہ کی پابندی کرنے والے ظلم سے محفوظ ہوکر جنت کے حقدار ٹھہرے۔ پھر انسان کی مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے قیامت کے منکرین کو کھری کھری سنائی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کے عقیدہ کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ یہ ایسا بدترین عقیدہ ہے کہ اس کی نحوست سے آسمان گرجانے چاہئیں اور زمین پھٹ جانی چاہئے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجانے چاہئیں۔ اللہ کی اولاد نہیں سب اللہ کے بندے اور مملوک ہیں۔

      سورہ طہ


      اس سورت میں بہت تفصیل کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے اور میدانِ محشر کی منظر کشی اور اختصار کے ساتھ قصہ آدم و ابلیس ہے اور دعوتِ الی اللہ کے لئے آخر میں کچھ زریں ہدایات دے کر سورت کو ختم کردیا گیا ہے۔ ابتداءمیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کا مقصد انسانی مشکلات و پریشانیوں میں اضافہ نہیں بلکہ نصیحت و خیرخواہی ہے۔ اس کے بعد توحید کا بیان ہے اور موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی واقعہ شروع ہوجاتا ہے۔ ابتدائی حصہ کو یہاں نظر انداز کرکے موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ کے ہمراہ مدین سے واپسی کے تذکرہ سے واقعہ شروع کیا گیا ہے۔ زوجہ امید سے تھیں دردزہ شروع ہوچکا تھا۔ سامنے آگ جلتی ہوئی دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام آگ لینے کو گئے، پیمبری مل گئی۔ موسیٰ علیہ السلام کو بتایا گیا کہ یہ آگ نہیں تمہارے رب کی تجلی ہے۔ وادی مقدس کے احترام میں جوتے اتارنے کے حکم کے ساتھ ہی پروانہ نبوت عطاءکرکے توحید کا پیغام نبی اسرائیل کے لئے دے کر نماز کے اہتمام کی تلقین کی گئی ۔ عصا سے اژدھا اور ہاتھ کو روشن و چمکدار بناکر دو معجزات عطاءفرماکر فرعون جیسے سرکش و باغی حکمران کے دربار میں توحید کا ڈنکا بجانے کے لئے روانگی کا حکم دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے گفتگو کا سلیقہ اور زبان میں تاثیر کی دعاءکے ساتھ ہی معاون کے طور پر اپنے بھائی ہارون کو بھی منصب نبوت پر فائز کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ احسانات کی یاد دہانی کراتے ہوئے اپنا ماضی یاد رکھنے کا سبق دیا اور اخلاق فاضلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کی یاد میں رطب اللسان رہنے اور نرم گفتاری کے ساتھ فرعون سے خطاب کرنے کی تلقین فرمائی۔ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو بحث بازی میں الجھاکر مقصد سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن موسیٰ علیہ السلام کی نپی تلی گفتگو سے فرعون کٹ حجتی اور دھمکیوں پر اتر آیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر اور اقتدار کا بھوکا قرار دے کر کہنے لگا کہ آپ اپنے جادو کی مدد سے مجھے اقتدار سے بے دخل کرکے قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی چوٹی کے جادوگر بلاکر آپ کا مقابلہ کریں گے۔ عید کے روز مقابلہ طے ہوا۔ جادوگر آگئے اور موسیٰ علیہ السلام کو مرعوب کرنے اور اپنی قابلیت جتلانے کے لئے انہوں نے عصا اور رسی کی مدد سے دو دو سانپ بنائے۔ موسیٰ علیہ السلام کی طبعی گھبراہٹ پر اللہ نے تسلی دی اور لاٹھی پھینکنے کا حکم دیا وہ اژدھا بن کر دیکھتے ہی دیکھتے تمام سانپوں کو نگل گئی، جس پر جادوگر مسلمان ہوگئے۔ فرعون نے انہیں قتل کی دھمکی دی۔ جب وہ نہ مانے تو انہیں پھانسی پر لٹکادیا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کو بحر قلزم سے پار کرایا اور فرعون کو سمندر میں غرق کردیا۔ موسیٰ علیہ السلام تورات لینے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ وہاں چالیس دن تک عبادت و ریاضت میں لگے رہے اور پھر کتاب لے کر واپس آئے تو قوم بچھڑے کو معبود بناکر شرک میںمبتلا ہوچکی تھی۔ سامری کا کہنا تھا کہ جبریل کے نشان قدم کی مٹی میں نے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی۔ بنی اسرائیل کے پاس فرعونیوں کے زیورات کا سونا جو کہ یہ لوگ مصر سے نکلتے وقت اپنے ہمراہ لے آئے تھے جمع کرکے آگ میں پگھلا کر اسے بچھڑے کی صورت میں ڈھالا اور اس کے منہ میں جبریل کے نشان قدم کی مٹی ڈالی تو وہ جگالی کرنے اور گائے جیسی آوازیں نکالنے لگا۔ چنانچہ اس نے بنی اسرائیل کو باور کرالیا کہ یہ تمہارا معبود ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کا معبود تمہیں بھلا چکا ہے۔ قوم اس کے بہکاوے میں آکر گﺅ سالہ پرستی میںمبتلا ہوگئی، موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور سے واپس آکر سخت ناراض ہوئے، حضرت ہارون کو ڈانٹا، ان کے سر اور داڑھی کے بال پکڑ کر گھسیٹا مگر حضرت ہارون کا معقول عذر تھا کہ قوم سمجھانے کے باوجود باز نہیں آئی بلکہ مشتعل ہوکر انہیں قتل کرنے پر آمادہ ہوگئی اور جان کے خوف اور انتشار کے ڈر سے خاموشی اختیار کرنی پڑی۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے سامری کو بلا کر فرمایا کہ دیکھو ہم تمہارے معبود کا کیا حشر کرتے ہیں۔ بچھڑے کو آگ میںجلا کر راکھ بنادیا اور سامری کو بددعا دی کہ اگر کسی سے اس کا جسم چھو جائے تو بخار میںمبتلا ہوجائے۔ چنانچہ سامری جب بھی گھر سے باہر نکلتا تو بخار میںمبتلا ہونے کے خوف سے چلاتا اور شور مچاتا لامساس، لامساس مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ اسی طرح زندگی بھر شور مچاتا ہوا مر گیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ پہلے انبیاءاور ان کی اقوام کے واقعات سنا کر ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کفر و شرک اور گناہوں کا بوجھ لادنے والے قیامت کے دن کیری آنکھوں اور سیاہ چہرے والے اپنے جرائم پر ملنے والی سزا کے تصور سے تھر تھرا رہے ہوں گے۔ قیامت کے دن اللہ کے خوف سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر ہوامیں اڑنے لگیں گے، زمین ایک ہموار چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی اور ہر انسان دم بخود بے حس و حرکت ہوگا کسی کی سفارش نہیں چلے گی لیکن ایمان و اعمال صالحہ والوں کو کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا۔ ہم نے قرآن کریم کو عربی زبان میں اتار کر ایک ہی بات کو مختلف اسالیب میںبیان کیا ہے تاکہ تمہیں نصیحت اور تقویٰ حاصل ہوسکے۔ اس لئے قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر غور و خوض کرکے پڑھا کرو اور اللہ تعالیٰ سے اپنے علم میں اضافے کی دعاءمانگتے رہا کرو۔
      پھر آدم علیہ السلام کا تذکرہ کہ انہیں مسجودِ ملائک بنایا مگر ابلیس سجدہ سے انکاری بنا۔ ہم نے آدم علیہ السلام کو بتادیا کہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے۔ کہیں تمہیں جنت سے نکلوا کر مشکلات میںمبتلاءنہ کردے۔ جنت میں آپ کی تمام بنیادی ضرورتیں پوری کی جائیں گی، بھوک اور پیاس کا انتظام کردیا جائے گا اور لباس اور چھت کا بندوبست بھی ہوگا، لہٰذا نہ آپ کو بھوک اور پیاس ستائے گی اور نہ ہی جسم ڈھانپنے اور دھوپ سے بچاﺅ کے لئے آپ کو پریشانی ہوگی۔ مگر آپ کو فلاں مخصوص درخت کے قریب نہیں جانا ہوگا۔ شیطان نے مختلف حیلے بہانے سے آدم علیہ السلام کو اللہ کا عہد بھلا کر وہ درخت کھانے پر آمادہ کرلیا اور بتایا کہ اس درخت کو کھا کر آپ دائمی طور پر جنت میں سکونت پذیر ہوجائیں گے۔ مگر نتیجہ برعکس نکلا اور اس طرح حضرت آدم کو خلد سے نکل کر اس دنیا کے دارالامتحان میں آنا پڑ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ کے نازل کردہ آسمانی نظام حیات سے روگردانی اس انسان کے تمام مسائل کی جڑ اور معیشت کی تباہی کا سبب ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں کو تلقین فرمائی کہ معاندین کی باتوں کو صبر و تحمل سے برداشت کریں۔ صبح وشام، دن اور رات میں تسبیح و تحمید کا اہتمام رکھیں۔ کافروں کے لئے وسائل زندگی کی فراوانی اور عیش و عشرت کو للچائی ہوئی نگاہوں سے نہ دیکھیں۔ خود بھی نماز کی پابندی کریں اور اپنے اہل خانہ کو بھی نماز کا پابند بنائیں اور اعلان کردیں ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا۔ لہٰذا تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کون راہ ہدایت پر ہے اور کون ضلالت و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا ہوا ہے۔



      Similar Threads:





    2. #2
      Moderator www.urdutehzeb.com/public_htmlwww.urdutehzeb.com/public_html
      BDunc's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Posts
      8,431
      Threads
      678
      Thanks
      298
      Thanked 247 Times in 212 Posts
      Mentioned
      694 Post(s)
      Tagged
      6321 Thread(s)
      Rep Power
      114

      Re: قال الم- ١٦

      V good


    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •