. .


Sehri Special Recipes



Iftaar Special Recipes



Need Your Feed Back


  • You have 1 new Private Message Attention Guest, if you are not a member of Urdu Tehzeb, you have 1 new private message waiting, to view it you must fill out this form.
    .

    User Tag List

    + Reply to Thread
    + Post New Thread
    Results 1 to 6 of 6

    Thread: ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں

    1. #1
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,323
      Threads
      12059
      Thanks
      8,598
      Thanked 6,915 Times in 6,455 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں



      ماہ صفرسیرت نبویہ کی نظر میں

      مولانا عابد جمشید
      حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیماری کا ایک دوسرے سے لگنا، بدشگونی، ہامہ اور ماہ صفر (کی نحوست) یہ سب چیزیں بے حقیقت ہیں۔ (صحیح بخاری)

      ماہ صفر اسلامی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے۔ یہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔ جیسا کہ مہینوں کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے: بیشک اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ جب سے اس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، اس میں چار مہینے محترم ہیں۔ یہ سیدھا اور صحیح دین ہے۔ پس تم لوگ ان (مہینوں کے بارے) میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ (التوبہ:36)
      چار محترم مہینے یہ ہیں: ذوالقعدۃ، ذوالحجۃ، محرم، رجب
      سارے مہینے اور دن اللہ تعالی ہی کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں۔ سب آپس میں برابر ہیں۔ کسی مہینے یا دن کو اگر کوئی برتری حاصل ہے تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے ہے۔ نیز کوئی مہینہ اور دن اللہ تعالی کے یہاں منحوس نہیں جیسا کہ ماہ صفر کے متعلق عام طور پر یہ بات مشہور ہے اور مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ زمانہ جاہلیت میں بھی پایا جاتا تھا۔ انسان نیکی بھی کرتا ہے اور برائی بھی پس جس وقت کو بندہ مومن اللہ کی اطاعت میں گزارے وہ اس کے حق میں مبارک وقت ہے اور جس وقت گناہ کا ارتکاب کرے وہی وقت اس شخص کے لیے منحوس ہے۔ گویا حقیقت میں نحوست کی چیز اللہ تعالی کی معصیت اور نافرمانی ہے۔
      اس مہینے کے آخری بدھ کو اور بعض جگہ اس مہینے کی تیرہ تاریخ کو طرح طرح کی رسمیں انجام دی جاتی ہیں۔ بعض لوگ اس ماہ کے آخری بدھ کو خصوصیت کے ساتھ غسل کا اہتمام کرتے ہیں اور خاص کھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ تمام رسمیں بدعات ہیں اور دین اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ کام نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوئے اور نہ صحابہ کرام کے عہد میں ان کا ثبوت ہے، نہ تابعین کے ہاں ان رسموں کا رواج تھا اور نہ ہی سلف امت میں کسی نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ لہٰذا ان تمام رسومات و بدعات سے بچنا چاہیے۔
      اسی طرح زمانہ جاہلیت میں کفار مکہ بعض پرندوں سے فال لیتے تھے اور الو کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح پرندوں سے یا اس کی آوازوں سے بدفال لینا جیسا کہ آج بھی ہندوؤں اور بعض مسلم معاشرے میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔ یہ کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ان سے منع فرمایاہے۔
      ماہِ صفرکو سیرت نبوی میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ اس ماہ میں بہت سے اہم واقعات پیش آئے۔ ہم ذیل میں چند اہم اور مشہور واقعات کا ذکر کرتے ہیں:
      ٭ اسی ماہ صفر کی 26 تاریخ تھی، نبوت کاچو دھواں سال تھا، جمعرات کا دن سورج بلند ہونا شروع ہوا اور ادھر کفار مکہ بھی اپنی اپنی کوششوں میں مصروف ہوئے اور رحمۃ للعلمین ، مظلوموں کے ساتھی، امن و سلامتی کی علامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات پانے کے راستے تلاش کرنے لگے۔
      یہی وہ دن ہے کہ جس دن سردارانِ قریش نے ایک میٹنگ بلائی جس میںاس امت کا فرعون ابوجہل بن ہشام قبیلہ بنومخزوم کا سرپرست، جبیر بن مطعم بنی نوفل بن عبدمناف کا ،شیبہ بن ربیعہ اور اس کابھائی عتبہ بن ربیعہ اور سفیان بن حرب بنی عبدشمس بن مناف کے ،نضربن حارث بنی عبدالدار کے ، ابوالبختری بن ہشام اورزمعہ بن اسود اورحکیم بن حزام بنی اسد بن عبدالعزی کے ، نبیہ بن حجاج اورمنبہ بن حجاج بنی سہم کے اور امیہ بن خلف بنی جمح کے سردار بن کرسامنے آئے ، ان کی مزید سربراہی کیلئے ابلیس نے اپنی خدمات مفت پیش کیں۔فیصلہ یہ ہواکہ نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوقتل کرنا، جس کیلئے قریش کے قبیلوں سے ایک ایک فرد چناگیاتاکہ اس خون میں سب شریک ہوں اور بنوعبدمناف(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلے کا نام ) بدلے میں کسی سے جنگ نہ کرسکے گا۔
      ادھر اللہ علام الغیوب کی طرف سے جبریل امین آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حکم ہجرت لے کر آئے، ساتھ یہ بھی کہاکہ آج رات اپنے بستر پر نہ گزاریں۔ یہ 27صفر کا دن تھا کہ اسی رات قریش کے اکابر مجرمین نے اپناسارادن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مہم میں گزارا،جب رات ذراتاریک ہوئی تو یہ لوگ گھات لگاکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھ گئے کہ آپ سوجائیں تو یہ لوگ آپ پر ٹوٹ پڑیں۔ بہرحال قریش اپنے منصوبے کے نفاذ کی انتہائی تیاری کے باوجود ناکامی سے دوچار ہوئے اور اس نازک ترین لمحہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم میرے بستر پر لیٹ جاو اور میری یہ سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سورہو، تمہیں ان سے کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی چادر اوڑھ کر سویاکرتے تھے۔
      آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور کفار کی صفیں چیریں،مٹی سے ایک مٹھی لی اور ان کی طرف اچھالی جس سے اللہ تعالی نے ان کی نگاہیں پکڑلیں اور و ہ آپ کو نہ دیکھ سکے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کے گھر تشریف لے گئے اور پھر ان کے مکان کی ایک کھڑکی سے نکل کر دونوں حضرات نے رات ہی رات یمن کا رخ کیا اور چند میل دورواقع ثورنامی پہاڑ پر ایک غار میں جاپہنچے، جسے بعد میں غارثورکے نام سے پہچاناگیا۔غار میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ بھی یہیں رات گزار تے۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ بڑے ذہین وفطین تھے رات چھاجانے کے بعد آپ کے پاس جاتے اور صبح اس حالت میں کرتے کہ مکہ والے سمجھتے کہ انہوں نے رات یہیں گزاری ہے اس طرح وہ کفار مکہ کی سازشیں آپ تک پہنچاتے۔
      چوتھے دن بروز سومواریکم ربیع الاول 1ھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار سے آگے مدینہ کا سفر عبداللہ بن اریقط اللیثی کی رہنمائی میں کیا جوصحرائی اور بیابان راستوں کاماہر تھا اور ابھی قریش ہی کے دین پر تھا،لیکن قابل اطمینان بھی تھا۔
      ٭ ماہ صفر 2ھ اگست 623ء غزوہ ابوا ئ۔ اس مہم میں ستر مہاجرین کے ہمراہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس تشریف لے گئے اور مدینے میں حضرت سعد بن عبادہ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا، مہم کا مقصد قریش کے ایک قافلے کی راہ روکنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ودان تک پہنچے لیکن کوئی معاملہ پیش نہ آیا، اسی غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوضمرہ کے سردار وقت عمرو بن مخشی الضمری سے حلیفانہ معاہدہ کیا جس کی تحریر یہ تھی یہ بنو ضمرہ کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر ہے۔ یہ لوگ اپنے جان اور مال کے بارے میں مامون رہیںگے اور جو ان پر حملہ کرے گا اس کے خلاف ان کی مدد کی جائے گی ، الا یہ کہ یہ خود اللہ کے دین کے خلاف جنگ کریں۔ یہ معاہدہ اس وقت کے لئے ہے جب تک سمندر ان کو ترکرے (یعنی ہمیشہ کیلئے ) اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مد د کیلئے انہیں آوازدیں تو انہیں آناہوگا۔
      یہ پہلی فوجی مہم تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود تشریف لے گئے تھے اور پندرہ دن مدینے سے باہر گزار کرواپس آئے ، اس مہم کے پرچم کا رنگ سفید تھا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ علمبردارتھے۔
      ٭ ماہ صفر 4ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضل اور قارہ (قبیلوں کے نام) کے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور ذکر کیا کہ ان کے اندر اسلام کا کچھ چرچاہے لہٰذا آپ ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو دین سکھانے اور قرآن پڑھانے کیلئے روانہ فرمادیں آپ نے دس افراد کو روانہ فرمایا اور عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا حضرت عاصم بن ثابت کو ان کا امیر مقرر کیا۔ جب یہ لوگ رابغ اور جدہ کے درمیان قبیلہ ہذیل کے رجیع نامی ایک چشمے پر پہنچے تو ان پر عضل اورقارہ کے مذکورہ افراد نے قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کوچڑھادیااور بنولحیان کے کوئی ایک سوتیر انداز ان کے پیچھے لگ گئے، ان کو گھیر لیا اور انہیں امن کا وعدہ دینے لگے لیکن حضرت عاصم نے ان کی بات کا یقین نہ کیا اور اپنے رفقاء سمیت ان سے جنگ شروع کردی ، بالآخر تیروں کی بوچھاڑ میں سات افراد شہید ہوگئے اور تین باقی رہ گئے، اب دوبارہ بنولحیان نے اپناعہد وپیماں دہرایااس پر تینوں صحابہ کرام ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے قابوپاتے ہی بد عہدی کی اور انہیں اپنی کمانوں کی تانت سے باندھ لیا اس پر تیسرے صحابی نے یہ کہتے ہوئے جانے سے انکار کردیا کہ یہ پہلی بدعہدی ہے جس پر انہوں نے انہیں قتل کردیا اور باقی دو صحابہ حضرت خبیب اور زید رضی اللہ عنہم کو مکہ لے جاکر بیچ دیا گیا ان دونوں نے بدر کے روز اہل مکہ کے سرداروں کو قتل کیا تھا۔
      ٭ صفر 4ھ بئر معونہ۔ یہ اس مہینے کادوسرا المناک واقعہ تھا جس کاخلاصہ یہ ہے کہ ابوبراء عامر بن مالک جو ملاعب الاسنۃ یعنی نیزوں کاکھلاڑی کے لقب سے مشہور تھا، مدینہ خدمت نبوی میںحاظر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی، جو اس نے قبول تو نہ کی مگر دوری بھی اختیار نہیں کی۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ آپنے اصحاب کو دعوت دین کیلئے اہل نجد کے پاس بھیجیں تو مجھے امید ہے کہ وہ لوگ آ پ کی دعوت قبول کرلیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے ان سے خطرہ ہے۔ ابوبراء نے کہاکہ آپ کے صحابہ میری پناہ میں ہوںگے۔
      اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے70آدمیوں کو اس کے ہمراہ بھیجا اور منذربن عمرو رضی اللہ عنہ کو ان کا امیرمقررکیا۔ بئر معونہ پہنچ کر حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دے کر اللہ کے دشمن عامر بن طفیل کے پاس روانہ کیا جس نے کچھ نہ دیکھااور ایک آدمی کوپیچھے سے اشارہ کردیاجس نے حضرت حرام رضی اللہ عنہ کواس زورکا نیزہ ماراکہ آر پار ہوگیا اور ان کے آخری الفاظ تھے اللہ اکبر! ربِ کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔
      اس کے بعد فوراہی اس سرکش عامر نے باقی صحابہ کرام پر حملہ کرنے کے لئے اپنے قبیلے کو آواز دی، مگر انہوں نے ابوبراء کی پناہ کے پیش نظر اس کی آواز پر کان نہ دھرے اس نے مایوس ہوکر بنو سلیم کو آوازدی اس کے تین قبیلوں عصیہ ، رعل ، اور ذکوان نے اس پر لبیک کہا اور جھٹ آکر ان صحابہ کرام کا محاصرہ کرلیا۔ جواباًصحابہ کرام نے بھی لڑائی کی مگر سب کے سب شہید ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خبر سے شدید صدمہ ہوا اور آپ نے دو ماہ تک ان قبیلوں کے لیے قنوت نازلہ پڑھی اور ان کے لیے بددعا کی۔
      فتح خیبرکے بعد کے کئی واقعات بھی اسی ماہ صفر میں پیش آئے جن میںسے:
      ٭ صفر 7 ھ حضرت جعفر اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہم کا حبشہ سے خیبر پہنچنا۔
      ٭ صفر 7 ھ حضرت صفیہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی جس میں ان کی اسلام کے بعد آزادی، ان کا مہر قرارپائی۔
      ٭ صفر 7 ھ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا جوکہ زہر آلود تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک ٹکڑاچبایااور نگلنے کی بجائے تھوک دیااور فرمایاکہ یہ ہڈی مجھے بتارہی ہے کہ اس میں زہر ملایاگیاہے۔
      ٭ صفر 7 ھ اہل فدک سے نصف پیداوار پرمصالحت ہوئی۔
      ٭ صفر 7 ھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر اسلام کے ہمراہ وادی القری تشریف لے گئے جوکہ ایک یہودی علاقہ تھاان کے ساتھ عرب بھی شامل ہوگئے، جب مسلمان وہاں اترے تو انہوں نے تیروں سے استقبال کیا، وہ پہلے ہی صف بندی کئے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام ماراگیا، جس نے غنیمت خیبر سے ایک چادر چرائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاوہ چادر اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے نہ مانی مبارزت ہوئی جس میں ان کے گیارہ آدمی مارے گئے، جب ایک ماراجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسلام کی دعوت دیتے۔اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر دوبارہ یہودکے مقابلے میں چلے جاتے اسی طرح شام ہوگئی۔ دوسرے دن ابھی سورج نیزہ برابر بھی نہ ہواتھا کہ انہوں نے اپناتمام کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھیر کردیا۔
      ٭ خیبر سے مدینہ واپسی بھی غالباً اسی صفر 7ھ کے آخر میں ہوئی۔
      ٭ صفر 8ھ میں سریہ غالب بن عبداللہ پیش آیا۔
      ٭ صفر9 ھ : سریہ قطبہ بن عامر پیش آیا۔
      ٭ آخری فوجی مہم : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کی آخری اور ایک بڑی فوجی مہم کی تیاری اسی مہینے میں کرائی جس کا سپہ سالار حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کو مقررکیااور حکم دیاکہ بلقاء کا علاقہ اور داروم کی فلسطینی زمین سواروں کے ذریعہ روندآئو۔
      محترم بہنو! سطور گذشتہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے کچھ واقعات پیش کیے ہیں جو صفر کے مہینہ میں پیش آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی عرض کی گئی کہ اس مہینہ کو منحوس سمجھنا محض جہالت اور دین سے دوری ہے۔ اس مہینہ کے ابتدئی دنوں کو تیرہ تیزی کا نام دینا، جنات کا آسمان سے نزول، اس ماہ میں شادی کی تقریبات منعقد نہ کرنا وغیرہ یہ سب توہمات ہیں جن کی ہمارے پاک اور مقدس دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو سیرت نبوی کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سے نوازیں۔
      نوٹ: ایک من گھڑت حدیث
      جو مجھے ماہ صفر ختم ہونے کی خوشخبری دے گا میں اسے جنت کی بشارت دوں گا۔یہ من گھڑت حدیث آج کل sms کے ذریعے پھیلائی جارہی ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔






      Similar Threads:
      Last edited by ~KAYRA~; 12-04-2014 at 01:46 PM.

    2. #2
      Moderator www.urdutehzeb.com/public_htmlwww.urdutehzeb.com/public_html
      BDunc's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Posts
      8,431
      Threads
      678
      Thanks
      298
      Thanked 247 Times in 212 Posts
      Mentioned
      694 Post(s)
      Tagged
      6321 Thread(s)
      Rep Power
      114

      Re: ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں

      Umda


    3. #3
      Family Member www.urdutehzeb.com/public_html UmerAmer's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Posts
      4,677
      Threads
      407
      Thanks
      124
      Thanked 346 Times in 299 Posts
      Mentioned
      253 Post(s)
      Tagged
      5399 Thread(s)
      Rep Power
      153

      Re: ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں

      JazakAllah


    4. #4
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,323
      Threads
      12059
      Thanks
      8,598
      Thanked 6,915 Times in 6,455 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں


    5. #5
      ...."I don't need your attitude. I've my own"..... www.urdutehzeb.com/public_htmlwww.urdutehzeb.com/public_html Arosa Hya's Avatar
      Join Date
      Apr 2014
      Location
      Peace
      Posts
      5,286
      Threads
      972
      Thanks
      965
      Thanked 827 Times in 507 Posts
      Mentioned
      518 Post(s)
      Tagged
      6978 Thread(s)
      Rep Power
      237

      Re: ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں

      Great job
      jazak ALLAH


    6. #6
      Administrator Admin intelligent086's Avatar
      Join Date
      May 2014
      Location
      لاہور،پاکستان
      Posts
      38,323
      Threads
      12059
      Thanks
      8,598
      Thanked 6,915 Times in 6,455 Posts
      Mentioned
      4324 Post(s)
      Tagged
      3289 Thread(s)
      Rep Power
      10

      Re: ماہ صفرسیرت نبویہﷺ کی نظر میں






      کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن
      حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

    + Reply to Thread
    + Post New Thread

    Thread Information

    Users Browsing this Thread

    There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

    Visitors found this page by searching for:

    Nobody landed on this page from a search engine, yet!
    SEO Blog

    Posting Permissions

    • You may not post new threads
    • You may not post replies
    • You may not post attachments
    • You may not edit your posts
    •