PDA

View Full Version : منفیّت کا منشور



intelligent086
09-04-2014, 01:31 AM
منفیّت کا منشور
چلو کچھ اور سوچیں
ہم نے اب تک جو بھی سوچا ہے
وہ صدیوں کی پرانی سوچ ہے
اب عہدِ جوہر ہے
یہ وہ لمحہ ہے
جس کے شہپروں پر بیٹھ کر
ہم کو زمیں سے اپنا ناتا توڑنا اور آسماں سے جوڑ لینا ہے
چلو کچھ اور سوچیں
اب یہ دنیا
اور انساں
اور اس کے دُکھ
پرانے، کرم خوردہ، بھربھرے، بد رنگ، بے لذت فسانے ہیں
چلو کچھ اور سوچیں
اور محبت کی بساطیں تہہ کریں
اور حسن کی قدریں بدل ڈالیں
چمکتی دھوپ پر
اور چاندنی راتوں پہ لعنت بھیج کر
پھولوں پہ تھوکیں
ندیوں کو پتھروں سے پاٹ دیں
رشتوں کو کاٹیں
رابطوں کو روند ڈالیں
سولیاں گاڑیں
چلو کچھ اور سوچیں
لفظ سے مفہوم کی دولت اچک لیں
اور اسے پتھر بنا ڈالیں
زبانیں نوکِ خنجر کی طرح سینوں میں گاڑیں
نغمگی کو چیخ میں بدلیں
سمندر خشکیوں پر کھینچ لائیں
وادیوں میں دلدلیں بھر دیں
چلو کچھ اور سوچیں
اب یہی سوچیں
کہ جو کچھ آدمی نے آج تک سوچا ہے
وہ سب کفر ہے
اور حق فقط یہ ہے
کہ جو کچھ ہے
نہیں ہے
کچھ نہیں ہے
واہمہ ہے
خواب ہے
اور خواب سوچوں کی قدامت کا نتیجہ ہیں!

(’’دوام‘‘) جنوری1976
***