PDA

View Full Version : وادی سوات



intelligent086
09-14-2015, 10:34 AM
http://dunya.com.pk/news/special_feature/specialFeature_img/495x278x13761_17645566.jpg.pagespeed.ic.aOtKo2w8kZ .jpg

امجد علی سحاب
تاریخ کی کتابوں میں رقم ہے کہ سوات گندھارا تہذیب کے انتہائی اہم مراکز میں سے ایک تھا، نیز یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ سوات کی گود میں گندھارا تہذیب کے علاوہ بھی دیگر کئی تہذیبوں نے پرورش پائی ہے۔ مہاراجہ رام چندر جی نے سوات ہی کے ایلم پہاڑ میں بن باس کرکے اسے ہندومت کے پیروکاروں کے لئے اہم بنا یا۔کہا جاتا ہے کہ ایلم پہاڑی کی عظمت اوراہمیت کی روایات زرتشتیوں ، پارسیوں اور یونانیوں کی کتب میں بھی ملتی ہیں۔ ہندوؤں کی کتاب ’’رگ وید‘‘ میں یہاں بہنے والے دریا کو ’’سواستو‘‘کہا گیا ہے۔ یہ پارس کے بادشاہ دارا اول ( I Darius) کا ایک صوبہ رہ چکا ہے، جسے 327 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے فتح کیا۔ 305 قبل مسیح میں یہ ہندوستان کے ماوریان خاندان کے قبضہ میں آیا۔ لگ بھگ پچپن سال بعد پارتھیا قوم نے مذکورہ علاقہ پر دست تصرف دراز کیا۔پہلی صدی عیسوی میں گندھارا تہذیب کشانا (Kushana) کے زیر نگیں آئی جو کہ وسطی ایشیاء کے خانہ بدوش تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں سوات کے علاقہ سے ’’پدما سمبھاوا‘‘ (بدھا ثانی) تبت کے لیے نکل پڑے تھے۔ ان ادوار میں مشرقی ایشیائی بدھ مت کا اصل ذریعہ ہوتے ہوئے سوات کا علاقہ ایک مقدس زمین تصور کیا جاتا تھا اور اس کی زیارت کے لیے تبت، چین اور دوسری جگہوں سے زائرین باقاعدہ طور پر حاضری دینے آیا کرتے تھے۔ڈاکٹر لوکا ماریا جو کہ مشہور اطالوی ماہر آثار قدیمہ ہیں۔ انھوں نے ’’اٹالین آرکیالوجیکل مشن‘‘ کے لیے خدمات ا نجام دیتے ہوئے وادیٔ سوات میں ستائیس سال گزارے ہیں۔ انھیں موجودہ دور میں اودھیانہ (سوات کا پرانا نام) کا سب سے مستند عالم اور محقق مانا جاتا ہے۔ سوات کے آثار قدیمہ کی درجہ بندی کرتے ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ورثہ عظیم، وسیع اور حیرت انگیز ہے۔اس کی درجہ بندی مشکل ہے، لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دنیا کے پچاس اہم ترین آثار قدیمہ میں سے ایک ہیں۔ قدیم کتب اور چینی ریکارڈ ان میں سے چند کی صاف وضاحت کرتے ہیں۔آرکیالوجی اینڈ میوزیم گورنمنٹ آف خیبر پختونخوا کے سبکدوش ڈائریکٹر پروفیسر شاہ نذر خان کا کہنا ہے کہ اودھیانہ کو گندھارا کا حصہ مانا جاتا ہے۔ بعض محققین کی رائے میں اودھیانہ ایک علیحدہ سلطنت تھا۔ اس وادی کے جنت نظیر ہونے کے علاوہ اس کے بدھ مت کے قدیم آثار بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اسٹوپے، خانقاہیں، عمارتیں، قلعے اور بڑی تعداد میں Rock Curvings وادی میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ وادیٔ سوات میں یہ آثار آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں، مگر یہاں کے عوام کے ساتھ ساتھ حکومت وقت کو بھی ان کی اہمیت کا سرے سے اندازہ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ تیزی کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق سوات میں اب تک دس فی صد آثار کو بھی دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔ سوات میں مختلف جگہوں سے نکلنے والے قیمتی آثار جن میں بدھا کے مجسمے، سکے، اس وقت کے برتن، زیورات اوردیگراشیاء شامل ہیں، کو پہلے پہل سیدو شریف عجائب گھر میں رکھا جاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے رکا ہوا ہے۔ موضع جہان آباد منگلور سوات میں چٹان میں کندہ کیا ہوا دنیا کا دوسرا بڑا مجسمہ ہے، جسے گذشتہ دور میں ناتلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ 11 اور 23 ستمبر 2007ء کو اس کے سر کو بارودی مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی، جسے بعد میں اٹالین مشن نے مزید خراب ہونے سے بچانے کی خاطر کوششیں کیں۔ اس کے علاوہ جہاں بھی سوات کے طول و عرض میں بدھ مت دور کے آثار بکھرے پڑے ہیں، ان میں چند ایک اٹالین مشن کی نگرانی میں ہیں اور باقی کو حالات کی ستم ظریفی کا سامنا ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں اسمگلروں کی غیر قانونی کھدائیاں جاری ہیں۔اس حوالہ سے سوات کے نوجوان محقق فضل خالق جنھوں نے سوات کے آثار قدیمہ پر اپنے ایک تحقیقی مقالہ TheUddiyana Kingdom: the forgotten Holy Land Of Swatکو کتابی شکل دی ہے، کہتے ہیں کہ سوات کے آثار قدیمہ کو نہ صرف عام عوام سے خطرہ ہے بلکہ ان کی زبوں حالی اور انھیں اس حالت تک پہنچانے میں محکمہ آثار قدیمہ برابر کا شریک ہے۔ فضل خالق کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ یہاں پر دو ڈھائی سو اسمگلر گروپ ان آثار کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی خاطر ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے ساتھ حکومتی اور عوامی دونوں طرح کی مدد بھی حاصل ہے جب تک حکومتی اہل کار اس عمل کا سختی سے نوٹس نہیں لیتے، اسمگلروں کو پکڑا نہیں جاتا، ان کے معاون عناصر کو سزا نہیں دی جاتی، تب تک ان آثار کو تباہ ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔ان آثارکا ایک عرصہ سے مطالعہ کرنے والے ماہر منہاج الدین المعروف بابا اس حوالے سے کافی تشویش میں ہیں۔ ان کے مطابق ’’سوات کے کئی علاقوں بریکوٹ، پنجی گرام، کنجر کوٹو، ننگریال، ، بالی گرام، کبل، خوازہ خیلہ، مٹہ، شوخ دڑہ حتیٰ کہ گل کدہ (جوکہ حکومتی تحویل میں لیا گیا علاقہ ہے) میں غیر قانونی کھدائیاں آج بھی جاری ہیں۔اس کے علاوہ بڑے بڑے آثارقدیمہ کے مراکزجن میں کوٹہ ابوہا، شموزو، جلالہ، گاڑوڈاگئی، بنجوٹ اور تلیگرام کے علاقے شامل ہیں، میں بھی بڑے پیمانہ پر غیرقانونی کھدائیاں ہو رہی ہیں۔ ان جگہوں سے قیمتی اشیاء نکالی جاتی ہیں جو کہ تھائی لینڈ، جاپان ، امریکا اوریوروپی ممالک اسمگل کی جاتی ہیں۔ اس غیر قانونی کام میں محکمہ آثار قدیمہ، مقامی پولیس اور بہت سے حکومتی ادارے اور مقامی بااثر سیاسی شخصیات تک شامل ہیں۔ منہاج کا مزید کہنا ہے کہ یہ آثار سوات کا قیمتی اثاثہ ہیں مگر بدقسمتی سے اس طرف حکومتی ادارے مسلسل غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اس ضمن میں سواستو آرٹ اینڈ کلچر ایسوسی ایشن کے روح رواں عثمان اولس یار بھی کافی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ عثمان اولس یار پشتون بیلٹ پر جہاں بھی تہذیبی وثقافتی کام ہوتا ہے، وہاں پیش پیش ہوتے ہیں۔ان کے بقول سوات میں آثار قدیمہ کی تباہی کا ذمہ دار محکمہ آثار قدیمہ ہے۔آثار قدیمہ کی حفاظت کے لیے جتنے ادارے سوات میں کام کرتے ہیں، ان سب سے اِن آثار کو خطرہ ہے۔ سوات میں جتنے آثار ہیں، چاہے وہ کھنڈرات ہوں، سوات کا اکلوتا عجائب گھر ہو یا مجسمے وغیرہ ہوں، ان کی حفاظت اور بحالی کے لیے مذکورہ ادارے اٹالین مشن کے رحم و کرم پر ہیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آج تک محکمہ آثار قدیمہ نے سوات میں ایک پیسے کا کام بھی نہیں کیا ہے۔ سوات عجائب گھر کو ہی لے لیں۔ اٹالین مشن نے اسے کتنے زبردست طریقے سے تیار کیا ہے، مگر محکمہ آثار قدیمہ نے اس پر جو گیٹ لگایا ہے، وہ کسی طویلے پر بھی نہیں لگایا جاسکتاہے۔سوات کے آثارِقدیمہ کے بچاؤ اور ان کی مسلسل تباہی کے بارے میں جب مقامی محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ سال دو ہزار بارہ کو املوک درہ سائٹ (تحصیل بریکوٹ سوات) میں غیر قانونی کھدائی کے دوران میں چند اسمگلروں کو پکڑا گیا تھا، ان سے ’’بدھ ستوا‘‘ تک برآمد کیا گیا تھا، جسے بعد میں سوات میوزیم کا حصہ بنایا گیا۔ ان اسمگلروں کو بعد میں معمولی سزا اور جرمانہ کے بعد چھوڑدیا گیا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسمگلروں اور ان کے معاونین کے لیے ٹھیک ٹھاک قانون سازی کرے۔ ٭…٭…٭

KhUsHi
09-21-2015, 02:26 AM
آپ نے بہت پیاری پوسٹ کی ہے
آپ کی اور بھی اچھی اچھی شیئرنگ کا انتظار رہے گا
شیئرنگ کا شکریہ

intelligent086
09-24-2015, 01:42 AM
پسندیدگی کا شکریہ

hir
09-24-2015, 03:39 PM
Nice post

intelligent086
09-25-2015, 12:44 AM
Nice post



پسندیدگی کا شکریہ