PDA

View Full Version : Political History of Nawaz Sharif



$low Poision
02-24-2015, 04:05 PM
یہ منظرتھا بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کا- نوازشریف سپریم کورٹ کے حکم کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ پہ بحال ہوچکے تھے جب ایک غیرملکی صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ موجودہ صورتحال میں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟


نوازشریف: میرے خیال میں ہمیں پاکستان کے اندر جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے- سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا اور حالیہ بحران کے پیچھے جو بھی محرکات ہیں، ان کا علاج کرنا ہو گا


[ این ڈی ٹی وی کے خبرنامے سے اقتباس]


1990 کے انتخابات میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ سیاست کرنے والی باقی جماعتوں کی طرح نوازشریف کی جماعت بھی آئی جے آئی کا حصہ تھی- اب یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے کہ آئی جے آئی تشکیل ذمہ دار جنرل حمید گل تھے- لیکن اس تاثر کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں کہ آئی جے آئی کی تشکیل کا مقصد نوازشریف کو وزیراعظم بنوانا تھا- آئی جے آئی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نوازشریف نہیں بلکہ غلام مصطفیٰ جتوئی تھے- غلام مصطفیٰ جتوئی کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ ایک سندھی وزیراعظم کو ہٹانے کے بعد نیا وزیراعظم بھی سندھ سے ہی ہونا چاہئیے- تاہم قدرت کو ایک بار پھر کچھ اور ہی منظور تھا- اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں نوازشریف پنجاب کے مقبول ترین لیڈر بن کے ابھرے تھے اور یہ ان کی جماعت کی ہی کارکردگی تھی جس کی وجہ سے پنجاب میں آئی جے آئی کو بیشتر نشستیں ملیں اور وہ حکومت بنانے کے قابل ہوئی- انتخابات کے بعد جب حکومت سازی کا موقع آیا تو نوازشریف کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کے بولنا شروع ہو گیا جس کے سامنے جتوئی صاحب کا چراٰغ ٹمٹمانے لگا- تاہم اسٹیبلشمنٹ اپنے فیصلے پہ قائم تھی اور اسی لیے غلام مصطفیٰ جتوئی کو سہارا دینے کا فیصلہ ہوا – طے پایا کہ راولپنڈی سے ملتان تک ایک جلوس نکالا جائے جس کی قیادت جتوئی صاحب کریں گے- نوازشریف بھی اس جلوس میں شامل تھے- جلوس پوٹھوہار کے بعد وسطی پنجاب داخل ہوا تو بدلی ہوئی سیاسی آب وہوا کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوگئے- یہی جلوس جب لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچا تو نوازشریف زندہ باد کے نعروں نے منظر بدل دیا-اوکاڑہ تک آتے آتے وزیراعظم نوازشریف کے نعروں کی گونج کئی گنا بڑھ گئی-جتوئی صاحب نے اپنی کار منگوائی اور وہاں سے واپس ہولیے- منتخب ارکان، جن میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا ، نوازشریف کے گرد اکٹھے ہو گئے – کورکمانڈروں کا اجلاس ہوا اور نوازشریف کو وزیراعظم تسلیم کرنے کا فیصلہ ہو گیا-یوں نوازشریف 41 برس کی عمر میں پہلی دفعہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے


نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کا پہلا دور 1990 سے 1993 تک محیط رہا- اس دور میں انھوں نے کئی ایسے اقدامات کیے جن کی بدولت پاکستان کی معاشی صورتحال بدلنا شروع ہو گئی- پرائیویٹائزیشن، فائبر آپٹکس کا جال بچھانا، جی ایس ٹی کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ، جی ڈی پی میں اضافہ، موٹروے جیسے منصوبوں کی تعمیر اور گرین چینلز جیسے چند اقدامات اسی فہرست میں شامل تھے- نوازشریف کے انہی اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معاشی نمو کی شرح 8 فیصد تک جاپہنچی جو کہ آج تک کی پاکستانی تاریخ کی کسی بھی جمہوری حکومت کے دوران ایک ریکارڈ کا درجہ رکھتا ہے-ایک طرف جہاں نوازشریف معاشی میدان میں کامیابیاں حاصل کررہے تھے وہیں ان کی عوام تک پہنچنے والے لیڈر کی تصویر ابھر رہی تھی- اسی دور حکومت کے دوران خطہ پوٹھوہار بدترین سیلاب کا شکار ہوا- اس سیلاب کے دوران نوازشریف سیلاب کے متاثرین تک ہر جگہ پہنچے اور ان کی بحالی تک چین سے نا بیٹھے- سیلاب کے متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے دن رات ایک کردینے کی اسی مشق نے خطہ پوٹھوہار کو نوازشریف کا ووٹر بنا ڈالا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے


ایک طرف تو نوازشریف کا سیاسی اور عوامی تاثر مضبوط ہورہا تھا مگر دوسری جانب ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں دراڑ وسیع تر ہوتی چلی جارہی تھی- اب تک نوازشریف پنجاب میں الگ تھلگ حکومت چلاتے چلے آرہے تھے اور وفاق میں ان کا کردار محدود تھا لیکن وفاق میں بحیثیت وزیراعظم آنے کے بعد انھیں اسٹیبلشمینٹ کے حقیقی کردار کا ذاتی تجربہ ہوتا چلا جارہا تھا – اسی دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت نوازشریف نے تبدیل کرنی شروع کردی تھی- نوازشریف کے جنرل اسد درانی، جنرل اسلم بیگ، جنرل آصف نواز جیسے جرنیلوں سے اختلافات پیدا ہوئے اور اس کی وجہ تھی ان جرنیلوں کی منہ زوری- نوازشریف آج بھی کہتے ہیں کہ یہ لوگ وزیراعظم کو وزیراعظم نہیں سمجھتے تھے- جنرل اسلم بیگ عالمی معاملات میں خود کو حکومتی پالیسی سے بالاتر سمجھتے تھے اور نوازشریف کے ساتھ ان کے عراق جنگ کی پالیسی پے اختلافات ڈھکے چھپے نہیں، جنرل اسد درانی حاضر سروس ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کی میٹنگز میں بیٹھتے تھے جبکہ جنرل آصف نواز اپنے پیشہ ورانہ معاملات پہ توجہ دینے کی بجائے سیاسی ملاقاتوں میں مشغول رہتے تھے- یہ وہ وقت تھا جب ایوان صدر میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا فرنٹ مین غلام اسحاق خان براجمان تھا- فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرح صدر کو بھی نوازشریف کی حقیقی وزیراعظم بننے کی کوشش پسند نہ آئی اور نوازشریف کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہو گیا- اس سلسلے میں پہلی کوشش شہباز شریف کو لبھانے کے لیے کی گئی جب غلام اسحاق خان انھیں نوازشریف کی جگہ وزیراعظم بن جانے کی پیشکش کی- شہبازشریف نے یہ پیشکش ٹھکرادی


اپریل 1993 میں صدر نے 58 – 2B کے سہارے اسمبلیاں توڑ کر نوازشریف کو گھر بھیج دیا – نوازشریف گھر بیٹھنے کی بجائے سڑکوں پہ نکل آئے اور عوامی رابطہ مہم شروع کردی- اب صورتحال یہ تھی کی جس وزیراعظم کو بدعنوان قرار دے کر سبکدوش کردیا گیا تھا ، وہ جدھر بھی جاتا عوام اس کے آگے بچھتی چلی جاتی- اس رابطہ مہم نے عوامی موڈ طاقت کے ایوانوں تک پہنچا دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر سپریم کورٹ نے صدارتی حکم کو کالعدم قرار دے کر نوازشریف کو بحال کردیا- تاریخ میں یہ واقعہ منفرد صرف اسی وجہ سے نہیں کہ سپریم کورٹ نے طاقت ایوانوں کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا تھا بلکہ اس واقعے کی انفرادیت یہ بھی تھی تھا کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو یہ فیصلہ وقتی طور پہ قبول بھی کرنا پڑا- ان تمام واقعات کے بعد نوازشریف قومی اسمبلی میں کھڑے ہوئے اوراسٹیبلشمنٹ کو کھلے الفاظ میں پیغام دیا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا


نوازشریف کی جانب سے یہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھلی بغاوت تھی جس کی سزا اس وقت کی انتہائی طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے بہرحال انھیں دی- پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے کرلینے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ایسے حالات پیدا کردیے کہ نوازشریف کے لیے حکومت چلانا مشکل ہوگیا اور وہ استعفیٰ دینے پہ مجبور ہوگئے – تاہم نوازشریف آج بھی اس فیصلے کو اپنی غلطی قرار دیتے ہیں – جاتے جاتے وہ ایک کام بہرحال کرگئے کہ ملک میں کسی کھیل تماشے کی مانند حکومتیں توڑنے کے شوقین غلام اسحاق خان کو بھی مستعفی ہونے پہ مجبور کردیا- نوازشریف نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے نام سے اپنی علیحدہ جماعت بنائی اور آزادانہ سیاست کا آغاز کردیا- ملک میں نئے انتخابات کا نقارہ بجا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ سر تھامنے پہ مجبور ہوگئی- مسلسل حکومت میں رہنے کے باوجود بھی نوازشریف اور ان کی جماعت انتخابات جیتنے کے لیے فیورٹ تھی- تاہم نوازشریف کی حالیہ بغاوت کے بعد ان کی حکومت میں واپسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو قبول نہ تھی- ملکی سیاست میں پتلی تماشہ سجانے والوں کے آزمودہ حربے کام لانے کا فیصلہ ہوا- اچانک قاضی حسین احمد جیسے آزمودہ سیاسی مہرے حرکت میں آئے اور پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے تیسری قوت پیدا ہونے کا شور اٹھا کردائیں بازوں کا ووٹ تقسیم کردیا گیا- انتخابات کی رات مسلم لیگ نواز ، جو کہ رات گئے تک اکثریتی جماعت بن کے ابھر رہی تھی صبح تک ، 25 سے زائد نشستوں پے چند سو سے ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئی- نوازشریف سے انتخابات تو چرا لیے گئے تھے لیکن اس ساری تگ و دو کے باوجود بھی وہ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت بن کےابھرے جب کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اتحادی حکومتیں بنانے میں کامیاب رہے- اگرچہ نشستوں کے اعتبار نوازشریف کی پوزیشن دوسری تھی لیکن ووٹوں کے اعتبار سے ان کی پارٹی 39 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن پے رہی- قاضی صاحب کی “تیسری قوت” بہرحال صرف تین نشستوں سے آگے نہ بڑھ سکی


To Be Continued

KhUsHi
02-24-2015, 05:52 PM
Great sharing

$low Poision
02-24-2015, 06:24 PM
Great sharing
:((sirf sharing great hai..me koi nai..:|:|

intelligent086
02-25-2015, 12:19 AM
khoobsurat sharing ,

UmerAmer
02-25-2015, 03:24 PM
Bohat Khoob

$low Poision
02-28-2015, 09:38 AM
thnx to all

Arosa Hya
02-28-2015, 09:45 AM
will see later

$low Poision
02-28-2015, 10:11 AM
will wait later :-O